سابق جج کی سندھ کے گورنر کی برطرفی کے لیے عدالت سے رجوع

کراچی:
سندھ ہائی کورٹ میں سابق جج احمد علی گبول نے ایک آئینی درخواست دائر کرتے ہوئے گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کو عہدے سے ہٹانے کی استدعا کی ہے۔ درخواست گزار کا موقف ہے کہ گورنر ٹیسوری نے اپنے عہدے کا حلف توڑتے ہوئے غیر جانبداری اختیار نہیں کی اور سیاسی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ گورنر نے ایم کیو ایم قیادت کے ساتھ بیٹھ کر صوبائی اور لسانی تقسیم پر گفتگو کی اور مختلف تقاریب میں کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کے حوالے سے بھی بات کی۔ مزید کہا گیا کہ انہوں نے گورنر ہاؤس سمیت دیگر مقامات پر ایسے خطابات کیے جن میں اردو بولنے والی برادری کو بنیاد بنا کر لسانی نفرت کو ہوا دینے کی کوشش کی گئی۔

درخواست گزار کے مطابق یہ طرزِ عمل آئین کے آرٹیکلز 4، 2، 25 اور 32 کی خلاف ورزی ہے، جو شہریوں میں برابری، ہم آہنگی اور وفاقی اتحاد کی ضمانت دیتے ہیں۔ مزید برآں، سپریم کورٹ کے وہ فیصلے بھی حوالہ کے طور پر دیے گئے ہیں جن میں واضح کیا گیا ہے کہ ریاستی دفاتر کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

درخواست میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 101(3) کے تحت صدرِ پاکستان پابند ہیں کہ وہ ایسے گورنر کو عہدے سے برطرف کریں جو سیاسی سرگرمیوں میں ملوث پایا جائے۔ "گورنر کا منصب ایک غیر سیاسی عہدہ ہے،” درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا، "لیکن کامران ٹیسوری نے اپنے عہدے اور گورنر ہاؤس کو ایک مخصوص جماعت کے مفادات کے لیے استعمال کیا ہے۔” کیس میں وفاقی سیکریٹری قانون و انصاف، سیکریٹری کابینہ ڈویژن اور گورنر سندھ کے پرنسپل سیکریٹری کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ گورنر کا عہدہ وفاقی یکجہتی اور صوبائی ہم آہنگی کی علامت ہے اور اسے کسی سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے

More From Author

پہلی بار پاکستانی کوہ پیماؤں نے ہندوکش کی بلند ترین چوٹی ترچ میر سر کرلی

شنگھائی میں ایشیا کی سب سے بڑی ٹیکسٹائل نمائش میں پاکستانی کمپنیوں کی بھرپور شمولیت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے