خودکش حملے کی سازش ناکام، افغان سرحد کے قریب پانچ مشتبہ دہشتگرد گرفتار

18 جولائی 2025 | پاک-افغان سرحد

پاک افغان سرحد کے قریب ایک اہم اور بروقت آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خودکش حملے کی ایک بڑی سازش ناکام بناتے ہوئے پانچ مشتبہ دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا۔ یہ افراد کالعدم تنظیم خوارج سے تعلق رکھتے ہیں، اور آپریشن کے اختتام پر بغیر کسی جانی نقصان کے ہتھیار ڈال دیے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، یہ مشتبہ افراد افغان سرحد عبور کر کے پاکستانی حدود میں داخل ہوئے اور عزیز خیل و منڈی خیل کی جانب پیش قدمی کی۔ تاہم، سیکیورٹی اداروں کی بروقت اطلاع اور فوری حکمت عملی کے باعث یہ منصوبہ ناکام ہوگیا۔ شدت پسندوں نے بچنے کے لیے بیسک خیل کے علاقے کی ایک مسجد میں پناہ لی۔

گھیراؤ اور گرفتاری

فورسز نے فوری طور پر مسجد کو گھیرے میں لے لیا۔ انتہائی منظم حکمت عملی اور پیشہ ورانہ مہارت کے باعث سیکیورٹی اہلکاروں نے بغیر کسی جھڑپ کے پانچوں شدت پسندوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا۔

ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والے تمام افراد افغان شہری ہیں، جن میں سے تین کے پاس افغان قومی شناختی کارڈ بھی موجود تھے۔ ان افراد کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

سرحدی سیکیورٹی کے لیے لمحہ فکریہ

تاحال حکام کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان مشتبہ افراد کا ہدف کیا تھا یا حملہ کب کیا جانا تھا۔ تاہم، سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ایک منظم نیٹ ورک کا حصہ تھے، جس کا مقصد سرحدی علاقوں میں بدامنی پھیلانا اور ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔

ایک سینئر انٹیلیجنس افسر نے بتایا:
"یہ کامیاب آپریشن نہ صرف ایک بڑے خطرے کو ٹالنے میں مددگار ثابت ہوا بلکہ اس نے سرحد پار سے درپیش خطرات کی سنجیدگی کو بھی اجاگر کیا ہے۔”

یہ واقعہ ایک بار پھر پاک افغان سرحد کی کمزور نگرانی اور دراندازی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی نشاندہی کرتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں سرحد پار سے شدت پسند عناصر کی آمد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث حکام نے نگرانی اور سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔

دہشتگردی کے خلاف وسیع تر مہم

یہ آپریشن پاکستان بھر میں شدت پسندوں کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جب تک سرحد پار دہشتگردوں کو محفوظ پناہ گاہیں میسر رہیں گی، اس طرح کی سازشیں وقفے وقفے سے سامنے آتی رہیں گی۔

وزارتِ داخلہ نے اس کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت اور صبر و تحمل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا آپریشن تھا جس میں جانوں کا ضیاع نہیں ہوا، جو فورسز کی تربیت اور اعلیٰ سوچ کا ثبوت ہے۔ پاکستان اس وقت جس قسم کی سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، ان میں یہ آپریشن نہ صرف ایک عملی کامیابی ہے بلکہ ایک وارننگ بھی ہے کہ خطرات مسلسل موجود ہیں — اور ان سے نمٹنے کے لیے مسلسل چوکسی، منصوبہ بندی اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے

More From Author

مون سون کی تباہی: ملک بھر میں 178 افراد جاں بحق، سیکڑوں زخمی

گھی ملز کی بندش کی دھمکی، پاکستان میں گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے