خلائی دنیا کی بڑی پیش رفت: ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی کا مشترکہ سیٹلائٹ سمندری طوفانوں کی پیش گوئی میں انقلاب لانے کو تیار

پاساڈینا – 4 اگست2025

سمندری طوفانوں کی بروقت اور درست پیش گوئی کے لیے ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی (ESA) ایک جدید سیٹلائٹ کے مشترکہ منصوبے پر کام مکمل کر چکے ہیں۔ یہ سیٹلائٹ — "سینٹینل-6 بی” — رواں سال 16 نومبر کے بعد کسی بھی دن خلا میں بھیجا جائے گا، جس کا مقصد سمندری درجہ حرارت اور سطح سمندر کی اونچائی پر کڑی نظر رکھنا ہے — یہ دونوں عناصر طوفانوں کی شدت میں اچانک اضافے کے بنیادی اسباب سمجھے جاتے ہیں۔

یہ مشن "سینٹینل-6 / جیسن کانٹینیوئٹی آف سروس (جیسن-CS)” پروگرام کا حصہ ہے، جو ناسا، ESA، EUMETSAT، اور NOAA جیسے عالمی اداروں کے درمیان قریبی تعاون کا عکاس ہے، جبکہ فرانس کی خلائی ایجنسی CNES اور یورپی کمیشن بھی اس منصوبے کی مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ یہ سیٹلائٹ "سینٹینل-6 مائیکل فریلیچ” کا تسلسل ہے، جو 2020 میں لانچ ہوا تھا۔ دونوں سیٹلائٹس مل کر گزشتہ تین دہائیوں سے جاری عالمی سطح سمندر کی تبدیلیوں کا ریکارڈ برقرار رکھنے کا اہم فریضہ انجام دیں گے۔

یہ سیٹلائٹ کیوں اہم ہے؟

اگرچہ سیٹلائٹ ڈیٹا طویل عرصے سے موسمی نگرانی کا حصہ رہا ہے، مگر سینٹینل-6 بی اس میدان میں نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ یہ سیٹلائٹ سمندری سطح میں معمولی تبدیلیوں کو غیرمعمولی درستگی کے ساتھ جانچنے کی صلاحیت رکھتا ہے — ایک ایسا عنصر جو موسمیاتی ماہرین کے لیے بے حد قیمتی ہے۔

“گرم سمندر کسی بھی طوفان کے لیے ایندھن کی حیثیت رکھتا ہے۔ جتنا زیادہ درجہ حرارت گہرے پانیوں میں موجود ہوگا، اتنی ہی تیزی سے طوفان شدت اختیار کر سکتا ہے،” ناسا کے جیٹ پروپلژن لیبارٹری (JPL) میں اس منصوبے کے سربراہ سائنسدان جوش ولس نے بتایا۔ “اگر کسی مقام پر سطح سمندر بلند ہو رہی ہو، تو یہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ نیچے گرم پانی موجود ہے — یہی وہ انتباہ ہے جو ہم چاہتے ہیں طوفان کے شدت اختیار کرنے سے پہلے مل جائے۔”

یہ معلومات خاص طور پر اس وقت قیمتی ہو جاتی ہیں جب طوفان اچانک شدت اختیار کرتا ہے — جسے سائنسی زبان میں "ریپڈ انٹینسفیکیشن” کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں محض 24 گھنٹوں کے دوران ہوا کی رفتار میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے، اور عام پیش گوئی کے ماڈلز ایسی تبدیلیوں کو بروقت نہیں پہچان پاتے، جس کی وجہ سے کئی بار بر وقت حفاظتی اقدامات ممکن نہیں ہو پاتے۔

حقیقی مثال: طوفان ملٹن

اکتوبر 2024 میں آنے والے سمندری طوفان "ملٹن” نے اس ٹیکنالوجی کی اہمیت کو ثابت کیا۔ یہ طوفان ابتدائی طور پر کیٹیگری 1 کا تھا، مگر صرف ایک دن میں یہ کیٹیگری 5 کی سطح تک جا پہنچا، جس نے کئی علاقوں کو حیران کر دیا۔ بعد ازاں اس کی شدت کچھ کم ہوئی اور یہ فلوریڈا سے کیٹیگری 3 کے طوفان کے طور پر ٹکرایا۔

جن پیش گوئی ماڈلز میں سینٹینل-6 مائیکل فریلیچ کا ڈیٹا شامل کیا گیا تھا، وہ سب سے پہلے اس خطرناک تبدیلی کی نشاندہی کرنے میں کامیاب ہوئے — جس نے امدادی اداروں کو بروقت متحرک ہونے کا موقع فراہم کیا۔

مشین لرننگ کی مدد سے نئی راہیں

سینٹینل-6 کا ڈیٹا جدید مشین لرننگ ماڈلز میں شامل کیا جا رہا ہے، جو اب یہ جانچنے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں کہ آیا کوئی طوفان شدت اختیار کر سکتا ہے یا نہیں۔ اس سے متعلقہ حکام کو بروقت وارننگ جاری کرنے میں مدد ملے گی، جس سے انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں اور مالی نقصانات بھی کم کیے جا سکتے ہیں۔

“جب طوفان شدت اختیار کر رہا ہو، تو ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے،” ناسا کی پروگرام سائنٹسٹ نادیہ وینوگرادوفا شیفر نے کہا۔ “یہ سیٹلائٹ عالمی موسمیاتی نگرانی اور زمینی سطح پر کیے جانے والے فیصلوں کے درمیان خلا کو پُر کرتا ہے۔”

صرف طوفان ہی نہیں، سمندر اور موسم بھی زیرِ نگرانی

یہ سیٹلائٹ صرف طوفانوں کی نگرانی تک محدود نہیں بلکہ مستقبل میں سمندر کی سطح میں اضافے، عالمی موسمی رجحانات، اور سمندری گردش جیسے عوامل پر بھی قریبی نظر رکھے گا۔ اس میں جدید مائیکروویو ریڈیومیٹر اور جی این ایس ایس-ریڈیو اوکالٹیشن جیسے آلات نصب ہوں گے جو زمین کے سمندروں کی انتہائی تفصیلی تصویر فراہم کریں گے۔

اس مشن میں ناسا کا جیٹ پروپلژن لیبارٹری (JPL)، جو کیلی فورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (Caltech) کے زیرِ انتظام ہے، کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، جس نے سیٹلائٹ کی جدید ٹیکنالوجی کو تیار کیا ہے تاکہ پورے مشن کی ڈیٹا ریکارڈنگ میں یکسانیت اور درستگی برقرار رہے۔

عالمی تعاون، مقامی اثرات

سینٹینل-6 ایک عالمی اشتراک کی روشن مثال ہے، جو اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ اگرچہ طوفان دور سمندروں میں بنتے ہیں، لیکن ان کے اثرات مقامی سطح پر انتہائی گہرے ہوتے ہیں — گھر تباہ ہوتے ہیں، زندگیاں اجڑتی ہیں، اور اربوں ڈالر کے نقصانات ہوتے ہیں۔

آب و ہوا کی تبدیلی اور شدید موسموں کی بڑھتی ہوئی شدت کے اس دور میں، اگر کسی مہلک طوفان کی پیشگی پیش گوئی دنوں پہلے ممکن ہو جائے، تو یہ غیر یقینی صورتحال کو قابو میں لانے اور بہتر حفاظتی اقدامات کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

جیسے ہی سینٹینل-6 بی خلا کی جانب روانہ ہوتا ہے، دنیا ایک اور طاقتور ذریعہ حاصل کرنے جا رہی ہے — قدرت کی بے رحم قوتوں سے ایک قدم آگے رہنے کے لیے۔

More From Author

 حیدرآباد میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا، ایچ ڈبلیو ایس سی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

 کینسر ریسرچ میں حیران کن موڑ — کیا ٹائپ 1 ذیابیطس کا علاج سامنے آ گیا ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے