بیروت: حزب اللہ نے دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گی اور اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر جارحیت بند کرے اور لبنان کی خودمختاری کا احترام کرے۔
حزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نعیم قاسم نے اپنے بیان میں کہا کہ لبنان کی اصل خودمختاری اسی وقت ممکن ہے جب اسرائیلی حملے ختم ہوں۔ انہوں نے لبنانی حکومت پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ 2024 کے فائر بندی معاہدے پر مکمل عمل درآمد ہو سکے۔
نعیم قاسم نے واضح کیا کہ “ہماری مزاحمت ایک مضبوط رکاوٹ ہے جو اسرائیل کو اپنے مقاصد حاصل کرنے سے روکے گی۔” انہوں نے حکومت اور عالمی طاقتوں کے اس مطالبے کو مسترد کیا کہ حزب اللہ کو فوج میں ضم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل پہلے لبنان کی سرزمین چھوڑے، ہمارے قیدی رہا کرے اور حملے بند کرے۔
دوسری جانب، امریکا کے خصوصی ایلچی ٹام بیراک نے لبنانی صدر جوزف عون سے ملاقات کے بعد کہا کہ لبنان حزب اللہ کے ہتھیار ڈالنے کے منصوبے کی منظوری دے چکا ہے، اب اسرائیل کی باری ہے کہ وہ تعاون کرے اور معاہدے پر عمل کرے۔
امریکی حمایت یافتہ منصوبے میں چار مراحل شامل ہیں: حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا، اسرائیلی فضائی، زمینی اور بحری حملے روکنا، جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کا انخلا اور جنگ کے بعد لبنان کی معیشت کی بحالی کے لیے اقدامات۔ تاہم حزب اللہ کی جانب سے ہتھیار ڈالنے سے انکار نے خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب اسرائیل لبنانی کابینہ کے فیصلے کے باوجود حملے جاری رکھے ہوئے ہے