گلگت | 19 جولائی 2025
گلگت بلتستان (جی بی) حکومت نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے آئندہ پانچ سال تک جھیلوں کے کنارے نئے ہوٹلوں کی تعمیر پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ان ماحولیاتی تحفظات کے بعد کیا گیا ہے جو کئی برسوں سے مقامی افراد اور ماہرین ماحولیات کی جانب سے اٹھائے جا رہے تھے۔
اپنی قدرتی خوبصورتی، خاموش وادیوں، برف پوش پہاڑوں اور نیلگوں جھیلوں کی وجہ سے گلگت بلتستان سیاحت کا ایک بڑا مرکز بن چکا ہے۔ یہاں 13,000 سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں — جو کہ قطبین کے علاوہ دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔ لیکن سیاحتی آمد میں اضافے کے ساتھ، بے ہنگم ہوٹلوں کی تعمیر نے ماحولیات پر خطرناک اثرات ڈالنا شروع کر دیے ہیں۔
حکومتی ذرائع نے اس ہفتے پابندی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ فیصلہ جھیلوں، گلیشیئرز اور مقامی ماحولیاتی نظام کو بچانے کے لیے ناگزیر ہو چکا تھا۔ پابندی ان جھیلوں کے اطراف لاگو ہو گی جو سیاحوں میں بے حد مقبول ہیں — جیسے عطاء آباد جھیل، شیو سر جھیل اور راما جھیل وغیرہ۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران ان جھیلوں کے اردگرد جو کبھی فطری سکون اور خاموشی کا گہوارہ تھیں، تیزی سے کنکریٹ کے ڈھانچوں نے جگہ لینا شروع کر دی۔ بیشتر عمارتیں بغیر کسی منصوبہ بندی یا ماحولیاتی جائزے کے تعمیر کی گئیں۔ سیاحت کی سہولت کے نام پر ہونے والی یہ دوڑ فطرت کو دھیرے دھیرے نگلنے لگی۔
مقامی افراد نے گندگی، پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ اور فضلہ ٹھکانے لگانے کے غیر مناسب طریقوں پر بارہا آواز اٹھائی ہے۔ ماہرین ماحولیات خبردار کر چکے ہیں کہ ایسی بے قابو تعمیرات گلیشیئرز کے پگھلنے کے عمل کو مزید تیز کر رہی ہیں — جو پہلے ہی عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہیں۔
"سیاحت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم فطرت کا گلا گھونٹ دیں،” اسکردو سے تعلق رکھنے والی ماہرِ ماحولیات زہرہ خان نے کہا۔ "اگر ہم نے ہوش نہ کیا، تو وہ خوبصورتی خود ہی مٹ جائے گی جسے دیکھنے لوگ یہاں کھنچے چلے آتے ہیں۔”
جھیلوں کے آس پاس نئی تعمیرات پر پابندی کے فیصلے کو ماحول دوست حلقوں کے ساتھ ساتھ کئی سیاحتی کاروباروں کی جانب سے بھی سراہا گیا ہے، جو پائیدار ترقی کے حق میں ہیں۔ البتہ یہ سوال بھی ابھر رہا ہے کہ بڑھتی ہوئی سیاحتی سرگرمیوں کا متبادل انتظام کیسے کیا جائے گا۔
حکومت کی جانب سے چند متبادل تجاویز زیر غور ہیں، جن میں "ایکو ٹورازم” کو فروغ دینا، مقامی گھروں کو ہوم اسٹے کے طور پر استعمال کرنا، اور پہلے سے موجود سہولیات کو بہتر بنانا شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کوڑا کرکٹ کے نظام اور عمارتوں کے ضوابط کو سخت کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ گلگت بلتستان کی حسین وادیوں اور جھیلوں کی طرف سیاحوں کا رخ جاری ہے، مگر یہ فیصلہ ایک واضح پیغام دے رہا ہے: ترقی فطرت کی قیمت پر نہیں کی جائے گی۔ فی الحال، ان جھیلوں کو کچھ سکون کا سانس لینے کا موقع ملا ہے