جنوبی وزیرستان میں چلغوزے کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی، کاشتکار شدید پریشان

جنوبی وزیرستان کی تحصیل لوئر میں چلغوزے کی قیمت اس سال غیر معمولی حد تک گر گئی ہے۔ گزشتہ سال جو چلغوزہ 10 ہزار روپے فی کلو فروخت ہوتا تھا، وہ اس سیزن صرف 3 ہزار روپے رہ گیا ہے۔ قیمتوں میں اس تیز گراوٹ نے ان ہزاروں خاندانوں کو سخت مالی مشکلات میں ڈال دیا ہے جن کی روزی روٹی اسی قیمتی خشک میوہ سے وابستہ ہے۔

مقامی تاجروں کے مطابق اس اچانک بحران کی بنیادی وجہ تین عوامل ہیں: پیداوار میں غیر معمولی اضافہ، عالمی منڈی میں طلب میں کمی، اور لاہور، راولپنڈی سمیت پنجاب کے بڑے شہروں میں کسٹمز و پولیس حکام کی جانب سے تاجروں کے ساتھ مبینہ ہراسانی اور غیر ضروری جانچ پڑتال۔

کمیشن ایجنٹ عمران وزیر نے بتایا کہ اس سال چلغوزے کی پیداوار معمول سے کئی گنا زیادہ ہوئی، جس کے باعث مارکیٹ میں سپلائی ضرورت سے زیادہ پہنچ گئی۔ ’’کاشتکاروں کو امید تھی کہ اچھی فصل بہتر منافع دے گی، مگر ہوا اس کے برعکس۔ جب مارکیٹ سپلائی سے بھر جائے تو قیمتیں تیزی سے نیچے آتی ہیں،‘‘ انہوں نے بتایا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں قیمت ایک تہائی سے بھی کم ہونے پر وہ کاشتکار سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جنہوں نے مزدوری، ٹرانسپورٹ اور پروسیسنگ پر بھاری رقم لگائی تھی۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ ضلع سے باہر کسٹمز اور پولیس حکام کی جانب سے بار بار مداخلت نے صورتحال مزید خراب کر دی ہے۔ چلغوزے سے بھرے ٹرکوں کو مختلف مقامات پر روک کر غیر ضروری دستاویزات چیک کی جاتی ہیں، جس سے نہ صرف تاخیر ہوتی ہے بلکہ میوہ اپنی تازگی بھی کھو دیتا ہے۔

عمران وزیر کے مطابق ’’چلغوزہ عام خشک میوہ نہیں ہے۔ یہ حساس اور مہنگا ہوتا ہے۔ معمولی تاخیر بھی اس کی قیمت گرا دیتی ہے۔ جب ٹرک گھنٹوں یا پورا دن روک لیے جائیں، تو میوہ خراب ہوتا ہے اور قیمت فوراً نیچے آ جاتی ہے۔‘‘

مقامی تاجروں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال لاہور میں کسٹمز حکام نے وزیرستان کے تاجروں کی چلغوزہ مارکیٹ سیل کر دی تھی، جس سے بھاری نقصان ہوا۔ ’’اس صدمے سے ابھی مکمل سنبھلے بھی نہ تھے کہ اس سال ایک اور بحران آ گیا،‘‘ ایک تاجر نے بتایا۔

تاجروں کے مطابق چلغوزے کا کاروبار پورے علاقے میں سب سے زیادہ محنت طلب کام ہے۔ پہاڑوں سے مخروط توڑنے سے لے کر چھلائی، صفائی، خشک کرنے اور ذخیرہ کرنے تک ہر مرحلے میں سخت محنت درکار ہوتی ہے۔ ’’ہم قانونی تقاضے پورے کرتے ہیں، فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کو فی کلو 5 روپے ڈیوٹی بھی ادا کرتے ہیں، پھر بھی ہائی ویز پر بار بار کیوں روکا جاتا ہے؟‘‘ ایک تاجر نے سوال اٹھایا۔

کاشتکار جاوید وزیر کے مطابق اس سال چلغوزے کی پیداوار تقریباً تین گنا بڑھ گئی، جس سے مارکیٹ دباؤ میں آ گئی۔ دوسری جانب عالمی منڈی، خصوصاً خلیجی اور مشرقی ایشیائی ممالک میں مانگ کم ہو گئی، جس سے برآمدی آرڈرز بھی گھٹ گئے۔

انہوں نے سب سے تشویشناک مسئلہ پنجاب کے مختلف شہروں میں کسٹمز اور پولیس کی مداخلت کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ٹرانسپورٹ کے دوران گاڑیوں کو بار بار روکا جاتا ہے، کاغذات دوبارہ چیک کیے جاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے صرف تاخیر کروانا مقصد ہو۔‘‘

تاجروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو چلغوزے کی برآمدات بھی شدید متاثر ہوں گی، جس سے پاکستان کی عالمی مارکیٹ میں ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ’’وزیرستان کا چلغوزہ دنیا بھر میں بہترین سمجھا جاتا ہے، مگر انتظامی غفلت اور غیر ضروری رکاوٹیں اس کی شہرت تباہ کر رہی ہیں،‘‘ ایک تاجر نے کہا۔

انہوں نے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق غیر ضروری چیک پوسٹوں کو ختم کیا جائے اور متعلقہ محکموں کو ہدایت دی جائے کہ وہ اپنے اختیار سے تجاوز نہ کریں۔ ’’ہزاروں خاندانوں کی آمدنی اس کاروبار پر منحصر ہے۔ حکومت اگر وقت پر اقدام نہ کرے تو اگلے سیزن تک حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں،‘‘ ایک مقامی تاجر نے خبردار کیا۔

More From Author

گوگل جیمنی سے اے آئی تصاویر کی شناخت اب پہلے سے کہیں آسان

وزیراعظم شہباز شریف کا بحرین کے دو روزہ سرکاری دورے پر روانہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے