کراچی:
کراچی میں بڑھتی ہوئی منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے کیلئے پولیس اور معروف آن لائن ڈیلیوری کمپنیوں نے سکیورٹی اقدامات مزید سخت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ بات ایک سینئر پولیس افسر نے بدھ کے روز تصدیق کی۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ، سید اسد رضا نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ اس مقصد کیلئے فوڈ ڈیلیوری اور رائیڈ ہیلنگ کمپنیوں کے نمائندوں کے ساتھ اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں رائیڈر سروسز کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
ڈی آئی جی اسد رضا کے مطابق، “ڈیلیوری کمپنیوں نے پولیس کو آگاہ کیا کہ کچھ افراد جعلی یونیفارمز، ہیلمٹس اور برانڈڈ ڈیلیوری بیگز استعمال کرکے اصلی رائیڈرز کا روپ دھار رہے تھے اور ان کے ذریعے منشیات کی ترسیل کر رہے تھے۔”
انہوں نے بتایا کہ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سکیورٹی پروٹوکولز کو مزید مضبوط کیا جائے گا، جس میں رائیڈرز کی سخت اسکریننگ، بیک گراؤنڈ ویریفیکیشن، اور رجسٹریشن کے عمل کو مزید شفاف بنایا جائے گا تاکہ صرف مستند افراد ہی یہ خدمات انجام دے سکیں۔
ڈی آئی جی نے مزید کہا، “رائیڈرز کو قانونی تقاضوں اور حفاظتی اصولوں سے آگاہ کرنے کیلئے باقاعدہ بریفنگز کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔”
کمپنی انتظامیہ نے پولیس کو یقین دلایا کہ وہ غیر رجسٹرڈ یا مشکوک رائیڈرز کی نشاندہی اور ان کے اکاؤنٹس فوری بند کرنے میں مکمل تعاون فراہم کریں گے۔
ڈی آئی جی اسد رضا نے کہا، “کمپنیوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ وہ ان علاقوں سے آنے والے بار بار کے مشکوک آرڈرز پر نظر رکھیں گے تاکہ منظم غیر قانونی نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا جا سکے۔” حکام جعلی شناخت استعمال کرنے یا کمپنی کا ملازم ظاہر کرکے غیر قانونی ڈیلیوریز کرنے والوں کی نشاندہی کیلئے بھی کمپنیوں کی مدد لیں گے۔
واضح رہے کہ رواں سال مارچ میں کراچی پولیس اور تعلیمی اداروں کے سربراہان نے شہر میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کو روکنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا تھا۔ جبکہ مئی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی تعلیمی اداروں میں طلبہ کو براہ راست فوڈ ڈیلیوری اور کوریئر کی ترسیل پر پابندی عائد کر دی تھی کیونکہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ منشیات کھانے پینے کی اشیاء یا پارسلز کی آڑ میں کیمپس میں پہنچائی جا رہی ہیں۔