کوئٹہ — وزیراعلیٰ بلوچستان میر صر فراز بگٹی نے منگل کو کہا کہ عوامی فلاح کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل صوبائی حکومت کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔
کوئٹہ میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے سرکاری محکموں کی کارکردگی اور جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے سرکاری مشینری کو روایتی طریقوں، سستی اور غیر ذمہ داری سے نکال کر جدید طرز حکمرانی سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ نااہلی، کرپشن اور ناقص کارکردگی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ تمام ادارے میرٹ پر کام کریں اور جواب دہ ہوں۔
چیف سیکریٹری نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال میں 3,049 اسکول فعال کیے گئے، جن میں 2,34,779 بچوں نے داخلہ لیا۔ 10,513 اساتذہ کی بھرتی اور 17,907 کو تربیت دی گئی۔ 5,000 غیر ضروری عہدے ختم کرکے اخراجات میں کمی کی گئی۔
سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی کوششوں سے 14,131 بچوں کو دوبارہ اسکولوں میں داخل کرایا گیا۔ صوبے میں پہلی بار سوشل میڈیا پالیسی متعارف کروائی گئی اور صحافیوں کے لیے ایک انڈومنٹ فنڈ بھی قائم کیا گیا۔
قدیم ہنگلاج ماتا مندر کو عالمی معیار کا سیاحتی مقام بنانے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ وزیراعلیٰ نے تمام سیکریٹریز کو دور دراز علاقوں کے دورے کی ہدایت کی اور 15 اگست تک چھوٹے منصوبوں کی منظوری کا عمل مکمل کرنے کا حکم دیا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبے تیزی سے مکمل کیے جائیں تاکہ عوام جلد ان کے ثمرات حاصل کر سکیں۔ اسلام آباد میں لیبر اینڈ مین پاور ڈیپارٹمنٹ کے تحت طلبہ کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے انہوں نے یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کی مکمل رپورٹ اگلے ہفتے طلب کی، جسے انہوں نے بلوچستان کے روشن مستقبل کی بنیاد قرار دیا۔
انہوں نے تمام خودمختار اداروں بشمول واسا کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ریونیو ماڈل خود بنائیں اور کوئٹہ کے پانی کے بحران کے مستقل حل کے لیے اقدامات کریں۔
منشیات کے خلاف حکومتی زیرو ٹالرنس پالیسی کو دہراتے ہوئے انہوں نے منشیات فروشوں کے خلاف صوبہ بھر میں کارروائی کا حکم دیا۔ بحالی مراکز کے قیام پر زور دیتے ہوئے انہوں نے ہدایت کی کہ آئندہ تین ماہ میں کوئی نشئی سڑکوں پر نظر نہ آئے۔
انہوں نے سرکاری دفاتر میں سست روی، پرانے طریقوں اور غیر سنجیدگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ کارکردگی ہی بقا کا معیار ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل ہی حکومت کی کامیابی کی کلید ہیں۔
آخر میں انہوں نے تمام محکموں پر زور دیا کہ وہ باہمی ہم آہنگی بڑھائیں، رکاوٹیں دور کریں اور عوام کو بروقت اور واضح نتائج فراہم کریں۔