کراچی: مالی سال 2024-25 کے اختتام پر پاکستان نے ترسیلات زر کے شعبے میں تاریخ کا نیا سنگِ میل عبور کر لیا۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے مجموعی طور پر 38.3 ارب ڈالر وطن بھجوائے — جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 27 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم، مالی سال کے اختتامی مہینے جون میں ترسیلات میں ماہ بہ ماہ (MoM) بنیاد پر 8 فیصد کمی دیکھنے میں آئی، جو 3.41 ارب ڈالر رہی۔
یہ کمی عید کے بعد ترسیلات میں معمول کی کمی کی عکاسی کرتی ہے اور اس نے ماہرین میں اس حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے کہ آیا یہ ریکارڈ سطح برقرار رکھی جا سکتی ہے یا نہیں — خاص طور پر ایسے حالات میں جب سیاسی اور معاشی عدم استحکام کے باعث ہجرت کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔
اگر جون 2024 سے موازنہ کیا جائے، تو اس سال جون میں ترسیلات میں 8 فیصد اضافہ ہوا ہے (3.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 3.4 ارب ڈالر)، تاہم مئی 2025 کے مقابلے میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جب ترسیلات 3.7 ارب ڈالر کی سطح پر تھیں۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ، علی نجیب نے اس سالانہ اضافے کی کئی وجوہات بیان کیں۔ ان کے مطابق، "خلیجی ممالک میں معاشی حالات میں بہتری کے باعث وہاں مقیم پاکستانیوں کی آمدن میں اضافہ ہوا، جس سے ترسیلات بڑھی ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیٹ بینک کے پاکستان ریمیٹینس انیشی ایٹو (PRI) کے تحت ترسیلات کو رسمی چینلز سے بھیجنے کی حوصلہ افزائی اور حوالہ/ہنڈی جیسے غیر رسمی ذرائع پر انحصار میں کمی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے بتایا کہ روپے کی قدر میں استحکام اور فارن ایکسچینج مارکیٹ پر سخت کنٹرولز نے بھی بینکنگ چینلز کو زیادہ پرکشش بنایا، جس کا نتیجہ ترسیلات میں اضافے کی صورت میں سامنے آیا۔ "یہ ترسیلات اس وقت پاکستان کے معاشی استحکام کی ریڑھ کی ہڈی بنی ہوئی ہیں،” علی نجیب نے کہا، اور آئندہ مالی سال کے لیے 39.3 ارب ڈالر کی پیش گوئی کی۔
ملک وار ڈیٹا میں دلچسپ تضادات سامنے آئے ہیں۔ سعودی عرب 9.3 ارب ڈالر کے ساتھ سرفہرست رہا (26 فیصد اضافہ)، متحدہ عرب امارات سے 7.8 ارب ڈالر (41 فیصد اضافہ) جبکہ برطانیہ سے 5.9 ارب ڈالر (31 فیصد اضافہ) موصول ہوئے۔ یورپی یونین سے بھی 4.5 ارب ڈالر کی ترسیلات آئیں، جو 29 فیصد زیادہ ہیں۔
تاہم امریکہ، جو کہ پاکستان کا ایک اہم ترسیلاتی ذریعہ سمجھا جاتا ہے، وہاں سے سالانہ بنیاد پر 13 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ صرف جون کے مہینے میں امریکہ سے ترسیلات میں 10.5 فیصد کمی ہوئی، جبکہ برطانیہ اور یو اے ای سے بھی بالترتیب 8.6 اور 4.9 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔ یہ تینوں ممالک — سعودی عرب کے ساتھ مل کر — پاکستان کی مجموعی ترسیلات کا تقریباً 70 فیصد فراہم کرتے ہیں۔ اس حد درجہ انحصار کو ماہرین خطرناک قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اگر ان ممالک میں معاشی یا پالیسی تبدیلیاں آئیں تو پاکستان کی بیرونی مالی حالت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے دیگر ممالک — جن میں سعودی عرب اور یو اے ای شامل نہیں — سے جون میں ترسیلات میں 16.1 فیصد کی نمایاں کمی ہوئی، اگرچہ سالانہ سطح پر اضافہ ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ممالک میں مقامی افرادی قوت کو ترجیح دینے اور تیل پر انحصار کے باعث پاکستانی ورکرز کے لیے مستقبل میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
ترقی یافتہ غیر خلیجی ممالک سے بھی ترسیلات میں سست روی دیکھنے کو ملی: جاپان سے سالانہ بنیاد پر 30.4 فیصد، کینیڈا سے 8.6 فیصد اور ناروے سے 4.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ کمی سخت امیگریشن پالیسیز، افراطِ زر اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کی کم آمدن کے باعث ہو سکتی ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ پاکستان کی ترسیلات میں "موسمی انحصار” کا ہے۔ مارچ سے مئی 2025 کے دوران رمضان اور عید کے موقع پر ترسیلات میں غیر معمولی اضافہ ہوا — مئی میں یہ 4.1 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچیں — لیکن جون میں اس کے بعد کمی نے یہ ظاہر کیا کہ یہ آمدنی کتنی غیر مستحکم اور وقتی ہو سکتی ہے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سی ای او محمد سہیل نے کہا، "اگر پاکستان کو ترسیلات کو مستحکم رکھنا ہے تو اسے محض خلیجی ممالک پر انحصار چھوڑ کر ہنرمند افرادی قوت کی برآمد اور باضابطہ بینکنگ ذرائع کے استعمال کو مزید فروغ دینا ہوگا۔” انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بنگلہ دیش نے بھی اس سال 30 ارب ڈالر کی ترسیلات وصول کیں — جو ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک کس حد تک بیرونِ ملک مقیم افرادی قوت پر انحصار کرتے ہیں۔
اگرچہ مالی سال 2025 کا اختتام ایک تاریخی کامیابی کے ساتھ ہوا، مگر جون کے اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ترسیلات زر کا یہ شعبہ اب بھی عالمی حالات، مہاجرت کے رجحانات اور اندرونی معاشی پالیسیوں کے اتار چڑھاؤ سے بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔