برسلز میں پاکستانی سفارتخانے میں یومِ استحصال کی تقریب، کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی

برسلز
یومِ استحصال کے موقع پر برسلز میں واقع پاکستان کے سفارتخانے میں ایک پُرسوز تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کے مظلوم عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔

یہ تقریب 5 اگست 2019 کے بھارت کے یکطرفہ اور متنازع اقدام کے پانچ برس مکمل ہونے پر منعقد کی گئی، جب نئی دہلی نے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر کے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی تھی۔ پاکستان نے اس اقدام کو فوری طور پر مسترد کر دیا تھا، جب کہ دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

تقریب کے دوران صدرِ پاکستان، وزیرِاعظم اور نائب وزیرِاعظم کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے، جن میں کشمیریوں کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا گیا۔

اس موقع پر یورپی یونین، بیلجیئم اور لکسمبرگ میں پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی نے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے پانچ اگست کے اقدامات کو غیر قانونی، غیر آئینی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا، "5 اگست 2019 اور اس کے بعد بھارت کے تمام اقدامات غیر قانونی ہیں، جن کا مقصد کشمیری عوام کی جائز اور پرامن جدوجہد کو دبانا ہے۔ پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا۔”

انہوں نے عالمی برادری، خصوصاً یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور بھارت کو اس کے اقدامات کا جوابدہ ٹھہرائے۔

تقریب کا اختتام کشمیری شہداء کے لیے دعا اور آزادی کی جدوجہد کی کامیابی کی دعا کے ساتھ ہوا

More From Author

 فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت — امریکا کی پاکستان پالیسی میں بڑی تبدیلی کا اشارہ

 پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کا امکان، صارفین کو ریلیف ملنے کی توقع

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے