کراچی، 19 جولائی 2025
موزمبیق کی بندرگاہ بیرا پر ایک پاکستانی کپتان اور عملے سمیت ایل پی جی ٹینکر "گیس فالکن” گزشتہ دو ہفتوں سے کھڑا ہے — اور اس کے اندر زندگی لمحہ بہ لمحہ موت کے قریب ہو رہی ہے۔
یہ کشتی، جسے مبینہ طور پر اطالوی پورٹ ایجنٹس نے واجبات کی عدم ادائیگی پر روک رکھا ہے، اب نہ صرف ایندھن سے خالی ہو چکی ہے بلکہ پانی، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہے۔ معاملہ صرف مالی تنازع نہیں رہا، اب یہ ایک شدید انسانی بحران میں تبدیل ہو چکا ہے۔
"ہمارے پاس کچھ نہیں بچا” — کپتان کی بے بسی بھری پکار
کشتی کے کپتان محمد اسلم — جو پاکستانی شہری ہیں — نے چند روز قبل میڈیا کو ایک مایوس کن میسج بھیجا۔ ان کی آواز میں گھبراہٹ، تھکن اور بےبسی واضح تھی:
"ڈیزل ختم ہو چکا ہے، پینے کا پانی نہیں بچا، کھانے کو کچھ نہیں۔ ٹھنڈک کا نظام ناکارہ ہو چکا ہے۔ کشتی کے اندر درجہ حرارت ناقابل برداشت ہو گیا ہے۔ اب ایمرجنسی لائٹس بھی بند ہونے والی ہیں۔ موبائل فونز بھی جواب دے رہے ہیں۔”
کپتان سمیت عملے کے تین ارکان پاکستانی ہیں — فرسٹ آفیسر اور شیف بھی اسی ملک سے ہیں — جبکہ دیگر 10 سے زائد افراد انڈونیشیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی حکومت نے اپنے شہریوں کو اس جہاز سے نکال لیا ہے، مگر پاکستانی عملہ اب بھی بے یار و مددگار پھنسا ہوا ہے۔
دفتر خارجہ متحرک، مگر رفتار سست
میڈیا میں شور اٹھنے کے بعد ڈائریکٹر جنرل پورٹس اینڈ شپنگ، عالیہ شاہد نے بتایا کہ پاکستانی عملے سے رابطہ ہو چکا ہے۔
"ہم موزمبیق حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں اور عملے کی جلد رہائی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہے ہیں۔”
تاہم کپتان اسلم حکومتی وعدوں سے زیادہ مطمئن نہیں دکھائی دیے:
"ہم نے بار بار پاکستان کے اداروں سے رابطہ کیا، لیکن اب تک صرف خاموشی ملی۔ ہر گزرتا لمحہ ہمارے لیے قیامت بن رہا ہے۔”
لوہے کا پنجرہ، جس میں زندگی سسک رہی ہے
کشتی کے اندر حالات ناقابل بیان ہیں۔ فریج بند پڑے ہیں، خوراک گل سڑ چکی ہے، صاف پانی کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے، اور گرمی کی شدت اندر لوہے کے بدن میں قید لوگوں کے لیے اذیت بن گئی ہے۔
کسی نے بتایا کہ نہانے کی سہولت تو کب کی ختم ہو چکی ہے، اب تو سانس لینا بھی دشوار ہو گیا ہے۔ ذہنی دباؤ اور جسمانی تھکن، دونوں عروج پر ہیں۔
میرین ٹریفک کے مطابق گیس فالکن — جو کہ گبون کے جھنڈے کے تحت چلتی ہے — کو آخری بار مشرقی افریقہ کے پانیوں میں دیکھا گیا تھا۔ یہ جہاز 113 میٹر لمبا اور 16 میٹر چوڑا ہے، اور اسے گیس لے جانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، انسانی بحران جھیلنے کے لیے نہیں۔
حکومت حرکت میں، لیکن وقت کم ہے
وفاقی وزیر برائے بحری امور، محمد جنید انور چوہدری نے واقعے کا نوٹس لیا اور فوری امداد کی ہدایت جاری کی۔
"یہ محض قانونی تنازع نہیں، ایک انسانی المیہ ہے۔ کسی بھی قیمت پر امداد پہنچنی چاہیے۔”
دفتر خارجہ بھی اب شامل ہو چکا ہے تاکہ موزمبیق میں پاکستانی سفارتی مشن کے ذریعے فوری رابطے ممکن بنائے جا سکیں۔
قانونی الجھن اور بین الاقوامی سستی
اس کشتی کو روکنے کی بنیادی وجہ مالی ادائیگیوں کا تنازع بتایا جا رہا ہے — شاید بندرگاہ کے واجبات یا فیول چارجز — لیکن تفصیلات دھندلی ہیں۔ کشتی کی ملکیت، آپریٹر، اور جھنڈا — سب غیر ملکی ہیں، جو مسئلے کو قانونی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چاہے جھنڈا کسی بھی ملک کا ہو، پورٹ حکام کی یہ اخلاقی اور قانونی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کشتی پر موجود انسانوں کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھیں۔
وقت ختم ہوتا جا رہا ہے
کشتی پر موجود لوگ اب صرف حکومت سے نہیں، پوری دنیا سے سوال کر رہے ہیں۔ انسانیت، قانون، اور بین الاقوامی ذمے داری کہاں ہے؟ صرف ایک غلط فہمی یا مالی تنازع نے انہیں موت کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
کپتان اسلم کی آخری اپیل دل دہلا دیتی ہے:
"ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ سمندر میں یوں قید ہو جائیں گے۔ ہمیں صرف اپنے گھر واپس جانا ہے۔”
یہ واقعہ صرف گیس فالکن یا اس کے عملے کی کہانی نہیں، یہ عالمی تجارتی نظام کے ان خاموش سپاہیوں کی داستان ہے جنہیں اکثر بحران کے وقت سب سے آخر میں یاد کیا جاتا ہے — جب وہ بھوک، پیاس اور تنہائی سے لڑ رہے ہوتے ہیں، اور دنیا صرف فائلیں پلٹ رہی ہوتی ہے۔