تیانجن، چین:
پاکستان نے بھارت کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ طاقت کے من مانی استعمال کو معمول بنانا خطے کے امن کیلئے خطرناک ثابت ہوگا۔ اسلام آباد نے زور دیا ہے کہ بھارت کو تنازعات کا حل بات چیت کے ذریعے نکالنا ہوگا، نہ کہ جارحیت سے۔
شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کیلئے پرعزم ہے، مگر امن اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک دھونس اور جارحیت کو پالیسی کا حصہ بنایا جاتا رہے۔
“پاکستان جنگ بندی کے معاہدے اور خطے میں استحکام کے قیام کیلئے اپنے عزم پر قائم ہے۔ لیکن ہم طاقت کے بے جا استعمال کو معمول بنانے کو قبول نہیں کر سکتے،” انہوں نے واضح کیا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ دہائیوں کا بدترین تصادم ہوا۔ 22 اپریل کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک حملے میں 26 افراد، جن میں زیادہ تر سیاح تھے، ہلاک ہوئے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا جسے اسلام آباد نے دوٹوک الفاظ میں مسترد کر دیا۔ بھارت کی جانب سے سرحد پار حملوں کے جواب میں پاکستان نے “آپریشن بنیان المرصوص” کے تحت کارروائی کرتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے چھ جنگی طیارے مار گرائے جن میں تین رافیل بھی شامل تھے۔ چار روزہ شدید جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک نے 10 مئی کو امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی پر اتفاق کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کا تقاضا ہے کہ تنازعات کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے نہ کہ محاذ آرائی سے۔ “ایک جامع اور باضابطہ ڈائیلاگ ہی جنوبی ایشیا میں دیرینہ مسائل کا حقیقی حل پیش کر سکتا ہے،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ باہمی معاہدوں کی پاسداری ناگزیر ہے تاکہ آئندہ کسی خطرناک صورتحال سے بچا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارتی اشتعال انگیزی اور “اسٹریٹیجک غیرذمہ داری” کے باوجود ہمیشہ ذمہ دارانہ رویہ اپنایا۔ “22 اپریل کے بعد کے حالات اس بنیادی حقیقت کو پھر سے اجاگر کرتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کیلئے دیرینہ تنازعات کا پرامن حل لازم ہے۔”
ایس سی او کا استحکام کیلئے کردار
وفاقی وزیر خزانہ نے ایس سی او کو ایک ایسی تنظیم قرار دیا جس کی سیاسی، اسٹریٹیجک اور معاشی اہمیت مسلمہ ہے۔
“عالمی نظام اس وقت شدید چیلنجز سے دوچار ہے اور ایسے میں ایس سی او استحکام کا ذریعہ بن کر ابھری ہے،” انہوں نے کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ تنظیم کا باہمی احترام اور مساوات پر مبنی نقطہ نظر محاذ آرائی اور تصادم پر مبنی پالیسیوں کا متبادل پیش کرتا ہے۔
“ایس سی او کا اتفاق رائے، ترقی اور باہمی احترام پر مبنی وژن ایک بہتر اور منصفانہ دنیا کی امید ہے۔”
انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ، ایس سی او اور بین الاقوامی قوانین کے چارٹرز کے اصولوں کی مکمل پاسداری کرتا ہے۔ “ہم جارحیت نہ کرنے، داخلی معاملات میں عدم مداخلت، طاقت کے استعمال سے گریز اور خطے میں یکطرفہ عسکری برتری نہ رکھنے پر یقین رکھتے ہیں۔”
دہشتگردی اور افغانستان پر مؤقف
دہشتگردی کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ پوری انسانیت کیلئے خطرہ ہے اور اس کی ہر شکل، بشمول ریاستی دہشتگردی، قابل مذمت ہے۔ “ہمیں دہشتگردی کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کے رجحان کو ترک کرنا ہوگا اور اس ناسور کا حل باہمی تعاون اور اس کی بنیادی وجوہات کے خاتمے سے ہی ممکن ہے۔”
افغانستان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہاں امن اور استحکام پورے خطے کی مشترکہ خواہش ہے۔ “ایس سی او افغان رابطہ گروپ کی بحالی عملی اور نتیجہ خیز تعاون کیلئے مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔”
انہوں نے ایس سی او ممالک کے درمیان تجارت اور ترقی کو مضبوط بنانے، باہمی ادائیگیوں کیلئے مقامی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دینے اور عالمی مالیاتی جھٹکوں سے بچنے کیلئے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے ایس سی او کے تحت متبادل ترقیاتی فنڈنگ میکانزم کی حمایت کی تاکہ رکی ہوئی علاقائی ترقیاتی اسکیموں کو دوبارہ فعال کیا جا سکے۔
“ہم ایس سی او کے ڈھانچے کو موجودہ تقاضوں کے مطابق مضبوط کرنے کے حامی ہیں اور چار نئے سیکیورٹی سینٹرز کا قیام رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دے گا،” انہوں نے اختتام کیا۔