پاکستان میں اگلے 15 روز کیلئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ متوقع ہے، جس کی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ بتایا جا رہا ہے۔
انڈسٹری ذرائع کے مطابق ابتدائی تخمینوں میں پٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 6 روپے 60 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 27 پیسے اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس کے برعکس مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے، جن میں بالترتیب 3 روپے 74 پیسے اور 2 روپے 23 پیسے فی لیٹر کمی کی تجویز سامنے آئی ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے عالمی مارکیٹ میں ہونے والی حالیہ تبدیلیوں کی بنیاد پر اپنا جائزہ مکمل کر لیا ہے اور حتمی سمری کل تک وفاقی حکومت کو بھجوا دی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں رد و بدل کا فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔
اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو نئی قیمتیں حکومت کے معمول کے پندرہ روزہ جائزہ نظام کے تحت آئندہ پندرہ دنوں کیلئے نافذ العمل ہوں گی۔
یاد رہے کہ رواں ماہ یکم جولائی کو بھی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا تھا، جس کی وجہ ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ کشیدگی کے دوران عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کا بڑھ جانا قرار دیا گیا تھا۔
اس وقت پٹرول کی قیمت میں 8 روپے 36 پیسے اضافہ ہوا تھا جس کے بعد اس کی نئی قیمت 266 روپے 79 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 10 روپے 39 پیسے بڑھ کر 272 روپے 98 پیسے فی لیٹر ہو گئی تھی۔
پاکستان اپنی پٹرولیم ضروریات کا تقریباً 85 فیصد درآمد کرتا ہے، اسی لیے مشرق وسطیٰ میں کسی بھی قسم کے بحران یا عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر ملکی قیمتوں پر پڑتا ہے۔