نیویارک – 6 اگست 2025:
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری “غیرقانونی اور سفاکانہ جنگ” کو روکنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرے۔
سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ، بالخصوص مسئلہ فلسطین پر بریفنگ کے دوران پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب، سفیر آصف افتخار احمد نے اپنے خطاب میں غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی، اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا، تمام یرغمالیوں کی رہائی اور بغیر کسی رکاوٹ کے انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے حال ہی میں مسئلہ فلسطین کے پُرامن حل اور دو ریاستی حل کی حمایت میں ہونے والی اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس کا خیرمقدم کیا، تاہم یہ بھی کہا کہ صرف علامتی اقدامات کافی نہیں۔
سفیر آصف افتخار کا کہنا تھا:
“یہ کانفرنس ایک خوش آئند قدم ہے، لیکن اس کے بعد ٹھوس اور مربوط عالمی اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ خطے میں پائیدار امن اور انصاف کا راستہ ہموار ہو سکے۔”
انہوں نے ایک بار پھر پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کا انحصار ایک خودمختار، قابلِ عمل اور مسلسل فلسطینی ریاست کے قیام پر ہے، جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر قائم ہو، اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
انسانی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے
دوسری جانب، غزہ میں انسانی بحران بدستور سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے ایک المناک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں روزانہ اوسطاً 28 بچے ہلاک ہو رہے ہیں — جو کہ ایک اسکول کلاس کے برابر ہے۔
یونیسف کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا گیا:
“بمباری سے موت، غذائی قلت اور بھوک سے موت، امداد کی عدم فراہمی اور بنیادی سہولیات کی کمی سے موت — غزہ کے بچوں کا ہر دن ایک قیامت سے کم نہیں۔”
ادارے نے واضح کیا کہ غزہ میں بچے خوراک، صاف پانی، ادویات اور تحفظ کے لیے تڑپ رہے ہیں — مگر اس سب سے بڑھ کر انہیں فوری جنگ بندی کی ضرورت ہے۔ یونیسف نے متنبہ کیا کہ اگر عالمی برادری نے فوری قدم نہ اٹھایا تو ہلاکتوں کا سلسلہ بدستور جاری رہے گا — اور یہ بحران دنیا کے بدترین انسانی المیوں میں شمار ہونے لگے گا