غزہ سٹی — 11 جولائی 2025
جب اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ اپنے 22ویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے، تب بھی غزہ میں خونریزی تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ جمعے کے روز ہونے والے ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں، غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم چھ افراد شہید ہو گئے — جن میں پانچ افراد ایک اسکول میں قائم پناہ گاہ میں مقیم تھے۔
ایجنسی کے مطابق، جبالیا النزیلہ کے علاقے میں واقع حلیمہ السعدیہ اسکول، جو عارضی طور پر بے گھر خاندانوں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہا تھا، اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنا۔ حملے کے نتیجے میں پانچ شہری موقع پر شہید ہوئے جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے۔ تعلیم کا مرکز کہلانے والا یہ اسکول، اس وقت جنگ کے عذاب میں گھرے لوگوں کے لیے پناہ کی آخری امید بنا ہوا تھا — مگر اب وہ بھی خاکستر ہو چکا ہے۔
اسی روز غزہ سٹی پر ہونے والے ایک اور حملے میں ایک اور شخص جاں بحق ہوا جبکہ کئی زخمی ہوئے، سول ڈیفنس کا کہنا ہے۔
"ہم تو صرف زندہ رہنے کی کوشش کر رہے تھے”
وسطی غزہ کے علاقے نصیرات میں قائم العودہ اسپتال نے بھی متعدد زخمیوں کو وصول کرنے کی تصدیق کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی فورسز نے امدادی سامان کی تقسیم کے مقام پر شہریوں پر فائرنگ کی، جہاں سینکڑوں افراد خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔
زخمی ہونے والے ایک نوجوان نے مقامی میڈیا کو بتایا:
"ہم تو صرف کھانے کے لیے آئے تھے۔ پھر گولیاں چلنے لگیں۔ ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ امداد کی تلاش میں جان بچانا پڑے گی۔”
ایک ایسی جنگ، جہاں کوئی محفوظ مقام نہیں
یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کو مزید نمایاں کرتا ہے کہ غزہ میں اب کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں رہی۔ نہ گھر، نہ اسکول، نہ اسپتال — اور نہ ہی وہ مقامات جہاں لوگ خوراک یا پانی لینے آتے ہیں۔ ہر جگہ، ہر لمحہ موت کا سایہ منڈلاتا ہے۔
غزہ میں میڈیا پر سخت پابندیاں اور غیر ملکی صحافیوں کی محدود رسائی کے باعث آزاد ذرائع سے جانی نقصان کی تصدیق ممکن نہیں۔ تاہم عینی شاہدین اور امدادی اداروں کی اطلاعات سے جو تصویر ابھر کر سامنے آ رہی ہے، وہ خوفناک اور ہولناک ہے۔
جنوبی غزہ میں مقیم ایک فلسطینی شہری، جو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے، نے بتایا:
"خانیونس کے اطراف گولہ باری کا سلسلہ رکا نہیں۔ فضائی حملے، ٹینکوں کی گھن گرج، اور کیمپوں کی مسماری ہر سمت جاری ہے۔ المصلخ کے جنوب، مغرب اور شمال میں ہر چیز مٹی میں ملتی جا رہی ہے — چاہے وہ کھیت ہوں یا پناہ گاہیں۔”
جنگ کا خاتمہ ابھی دور ہے
جمعے کے حملوں پر تاحال اسرائیلی فوج کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ البتہ اسرائیل ہمیشہ یہی موقف اختیار کرتا آیا ہے کہ وہ صرف حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتا ہے — نہ کہ شہریوں کو۔ لیکن زمینی حقائق اور بڑھتے ہوئے عالمی خدشات، اس دعوے پر سوالات اٹھاتے ہیں۔
ادھر، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی ادارے فوری جنگ بندی اور محفوظ راہداریوں کا مطالبہ کر رہے ہیں، کیونکہ غزہ کے باقی بچے اسپتال زخمیوں سے بھر چکے ہیں، اور طبی وسائل ختم ہونے کو ہیں۔
جو لوگ اسکولوں میں پناہ لے رہے تھے، جو قطار میں صرف کھانے کے لیے کھڑے تھے، جو صرف زندہ رہنے کی جستجو کر رہے تھے — ان کے لیے محفوظ رہنا اب خواب بن چکا ہے۔