آئرلینڈ کا تاریخی قدم: اسرائیلی بستسے تجارتی روابط پر پابندی لگانے والا پہلا یورپی ملک بن گیا

یورپ میں ایک بڑی سفارتی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، جہاں آئرلینڈ نے اسرائیلی زیرِ قبضہ فلسطینی علاقوں — مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم — میں قائم غیرقانونی یہودی بستیوں سے تجارتی لین دین اور درآمدات پر پابندی عائد کرنے کے لیے باضابطہ قانون سازی کا آغاز کر دیا ہے۔

آئرش وزیرِ خارجہ و تجارت سائمن ہیریس نے بدھ کے روز اس قانون سازی کا اعلان کیا، جسے حال ہی میں عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) کی جاری کردہ ایڈوائزری رائے کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔ ICJ نے 19 جولائی 2024 کو دیے گئے اپنے مشورتی فیصلے میں کہا تھا کہ اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون، خصوصاً جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 49(6)، کی خلاف ورزی ہیں۔

ہیریس کا کہنا تھا:
"یہ قانون سازی ایک سنجیدہ اور بامقصد قدم ہے۔ یہ نہ صرف بین الاقوامی قانون کی پاسداری ہے بلکہ آئرش عوام کے اس احساس کی بھی عکاسی ہے جو فلسطین میں جاری انسانی المیے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔”

قانون کا دائرہ

اس مجوزہ قانون — جسے General Scheme of the Israeli Settlements in the Occupied Palestinian Territory (Prohibition of Importation of Goods) Bill کا عنوان دیا گیا ہے — کو کابینہ کی منظوری حاصل ہو چکی ہے اور اب یہ مزید جائزے کے لیے آئرش پارلیمنٹ (Oireachtas) کی خارجہ و تجارتی کمیٹی کو بھیجا جا رہا ہے۔

قانون کے نافذ ہوتے ہی اسرائیلی بستیوں سے سامان درآمد کرنا آئرلینڈ کے کسٹمز ایکٹ 2015 کے تحت قابلِ سزا جرم بن جائے گا۔ کسٹمز حکام کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ایسی اشیاء کو ضبط یا تحویل میں لے سکیں۔ اس کے لیے اسرائیلی پوسٹل کوڈ سسٹم استعمال کیا جائے گا، جو یورپی یونین پہلے ہی اسرائیلی و بستیوں کے درمیان فرق کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

عالمی عدالت کی گونج

ICJ کی رائے میں واضح کیا گیا کہ اسرائیلی بستیوں کا قیام بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور رکن ممالک کو ہدایت دی گئی کہ وہ ان بستیوں سے متعلق معاشی و تکنیکی معاونت روکیں اور موثر اقدامات کریں۔

اسی تناظر میں آئرلینڈ، بیلجیم، اسپین اور سویڈن سمیت نو یورپی ممالک نے یورپی کمیشن سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایسی رہنمائی فراہم کرے جس کے ذریعے رکن ممالک ان بستیوں سے تجارتی تعلقات ختم کر سکیں۔

ہیریس کا کہنا تھا:
"جب بین الاقوامی قانون پامال ہو رہا ہو، تو ہمیں اتفاقِ رائے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ آئرلینڈ اپنے دستیاب قانونی ذرائع استعمال کرے گا — اور ہم چاہتے ہیں کہ دیگر ممالک بھی یہی کریں۔”

گھریلو سطح پر ردِعمل

قانون پر آئرلینڈ کے اندر بھی ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے اسے ایک جراتمندانہ اقدام قرار دیا ہے، جبکہ کچھ حلقوں — خصوصاً یہودی کمیونٹی — نے تنقید کی ہے۔

سابق وزیرِ انصاف ایلن شیٹر نے اس بل کو یہودی مصنوعات کے خلاف جانبدارانہ قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر انہوں نے لکھا کہ:
"نازی جرمنی کی شکست کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی یورپی حکومت نے خاص طور پر یہودی اشیاء کے بائیکاٹ کا قانون پیش کیا ہے۔”

شیٹر نے بل کے ممکنہ مخفف "PIGS” (Prohibition of Importation of Goods from Settlements) کو بھی ناقابلِ قبول اور اشتعال انگیز قرار دیا۔

اس تنقید کے باوجود، وزیرِ خارجہ ہیریس نے واضح الفاظ میں کہا:
"یہ قانون مذہب یا نسل سے متعلق نہیں، بلکہ غیرقانونی بستیوں سے متعلق ہے۔ یہ بین الاقوامی قانون پر مبنی ہے، سیاسی تماشے پر نہیں۔”

آگے کیا ہوگا؟

یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آئرلینڈ کے اس اقدام کے بعد دیگر یورپی ممالک بھی اسی راہ پر چلیں گے یا نہیں، لیکن فی الحال، آئرلینڈ نے واضح طور پر عالمی قانون کی حمایت کا علم بلند کر دیا ہے۔

"ہم ایسے نہیں جی سکتے کہ سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہو، جبکہ بستیاں پھیلتی جا رہی ہیں اور انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں،” ہیریس نے کہا۔
"ہر ملک کو ایک فیصلہ کرنا ہوتا ہے — اور ہم اپنا کر چکے ہیں۔”

More From Author

وزیراعظم کا عوام کیلئے بڑا قدم: ’اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ‘ ایپ کا اجرا

چین نے پاکستان کے لیے 3.4 ارب ڈالر کے قرضے رول اوور کر دیے، آئی ایم ایف کی شرائط پوری ہونے کے امکانات بڑھ گئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے