تازہ ترین

وزیراعظم عمران خان کا لیہ میں احساس اثاثہ جات منتقلی پروگرام کے اجراء کی تقریب سے خطاب

لیہ ۔ 21 فروری (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان مشکل وقت سے نکل چکا ہے، قوم کو مزید خوشخبریاں ملیں گی، اگر ہم گذشتہ حکومتوں کے لئے گئے قرضوں کی اقساط بروقت واپس نہ کرتے تو ملک دیوالیہ ہو جاتا۔ تعلیم، صحت، انصاف اور تھانوں کا نظام بہتر بنا رہے ہیں، 80 ہزار لوگوں کو ہر ماہ بلاسود قرضے اور 50 ہزار غریب نوجوانوں کو ہر سال سکالرشپس دیں گے، ملک بھر میں مزدور اور غریب طبقہ کو چھت اور خوراک کی فراہمی کیلئے پناہ گاہیں تعمیر کی جا رہی ہیں، غریب اور امیر کیلئے یکساں نصاب لا رہے ہیں، اساتذہ کیلئے جزا اور سزا کا نظام لایا جا رہا ہے ۔ جمعہ کو وزیراعظم عمران خان نے لیہ میں ”احساس اثاثہ جات منتقلی پروگرام” کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جس نظریہ پر قائم ہوا تھا وہ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، وہ فلاحی ریاست کا تصور تھا، ہماری کوشش ہے کہ پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنائیں، پاکستان کی اب تک کی ہونے والے ترقی میں امیر، امیر تر ہوتا گیا جبکہ غریب اپنی جگہ پر اسی طرح رہا، یہ فاصلہ بڑھتا چلا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی معاشرہ اس صورتحال میں ترقی نہیں کر سکتا، مدینہ کی ریاست نبی اکرمۖ نے اسی اصول کی بنیاد پر بنائی اور لوگوں کو غربت سے نکال کر مسلمانوں کو ایک عظیم قوم بنایا، چین نے 30 سال میں 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا، اس لئے وہ عظیم ترین ملک بنا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی احساس پروگرام شروع کیا گیا، کمزور طبقہ کیلئے کفالت کارڈ کا آغاز کیا گیا ہے جس سے ان کو براہ راست رقم مل رہی ہے جس سے وہ اپنی اشیاء ضروریہ خرید سکتے ہیں، کمزور طبقہ کو ہنرمندی کے آلات دیئے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنے پائوں پر کھڑے ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو ایک گائے، ایک بھینس اور تین بکریاں دی جا رہی ہیں تاکہ وہ اپنا گھر چلا سکیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر ماہ 80 ہزار لوگوں کو بلاسود قرضے دیئے جائیں گے، کمزور طبقہ کے نوجوانوں کیلئے ہر سال 50 ہزار سکالرشپس دیئے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ پورے پاکستان میں مزدور اور بے سہارا طبقہ کیلئے پناہ گاہیں بنائی جا رہی ہیں جہاں انہیں کھانا، پینا اور رہائش مفت فراہم کی جائے گی، اب تک 180 پناہ گاہیں بن چکی ہیں، ہماری کوشش ہے کہ کوئی جگہ ایسی نہ ہو جہاں کوئی غریب چھت نہ ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر سوئے، ہم وہ پاکستان بنائیں گے جہاں کوئی بھوکا اور سڑک پر نہیں سوئے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس کے علاوہ ہم عدالت میں غریب افراد کو انصاف کی فراہمی کیلئے قانونی معاونت فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے نظام میں سب سے بڑا انقلاب آ رہا ہے، پنجاب میں 60 لاکھ خاندانوں کو صحت کارڈ دیئے جا رہے ہیں، اب تک 50 لاکھ افراد کو یہ کارڈز مل چکے ہیں، اس کے تحت 7 لاکھ 20 ہزار روپے تک فی خاندان کسی بھی بڑے ہسپتال میں اپنا علاج کرا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کی تعمیر میں استعمال ہونے والی مشینری پر درآمدی ڈیوٹیز ختم کر دی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ صحت کے نظام کے ساتھ ساتھ تعلیم کے نظام کو بھی بہتر بنایا جائے، سرکاری سکولوں کا بگڑا ہوا نظام درست کرنے جا رہے ہیں، غریب اور امیر کیلئے یکساں نصاب لا رہے ہیں، یہ آسان کام نہیں ہے، اس کو درست کرنے میں وقت لگے گا، ہم چاہتے ہیں کہ اساتذہ کیلئے سزا اور جزا کا نظام ہو، جو اساتذہ سکولوں میں نہیں آتے انہیں فارغ کرکے ان کی جگہ پر ایسے نوجوان بھرتی کئے جائیں جو بچوں کو پڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا نظام بہتر بنانے کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں، تھانوں پر لوگوں کو اعتماد نہیں ہے، عام آدمی کو تھانوں سے تحفظ نہیں ملتا، نئے آئی جی پنجاب کو مبارکباد دیتا ہوں، ان کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہر ضلع میں چھوٹے کی بجائے بڑے مجرموں کو پکڑیں، نبی اکریمۖ کے فرمان کا مفہوم ہے کہ بڑی قومیں اسی لئے تباہ ہوئیں کہ کمزور اور طاقتور کیلئے انصاف کے الگ الگ نظام تھے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے ظالموں، ڈاکوئوں اور قاتلوں کو پکڑ کر جیلوں میں ڈالیں تو چھوٹے خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئی جی نے یہ کام شروع کر دیا ہے جس پر انہیں مبارکباد دیتا ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مشکل وقت سے نکل آیا ہے، جب ہم اقتدار میں آئے تو اس وقت پاکستان نے جو قرضے لئے ہوئے تھے اگر ان کی اقساط واپس نہ کرتے تو ملک دیوالیہ ہو جاتا، مہنگائی دوگنا ہو جاتی، پاکستان اس مشکل وقت سے نکل گیا ہے تاہم ابھی بھی بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے لیکن ملک درست گامزن ہے، کرنٹ اکائونٹ خسارہ ایک سال میں 75 فیصد کم ہوا ہے، روپیہ مستحکم ہوا ہے، سٹاک مارکیٹ میں بہتری آئی ہے ، بیرونی سرمایہ کاری شروع ہوئی ہے، آنے والے دنوں میں مزید خوشخبریاں ملیں گی۔ انہوں نے اس زبردست پروگرام کے اجراء پر ثانیہ نشتر کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس سے خواتین کو اپنی زندگیوں میں بہتری لانے کا موقع ملے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ جو کچھ بھی ہیں اپنی ماں کی وجہ سے ہیں، ہم نے پاکستان کی مائوں کی مدد کرنی ہے تاکہ وہ خود اور اپنے خاندان کو معاشی طور پر مستحکم کر سکیں۔

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*