تازہ ترین

جنوبی افریقہ میں جاری لڑائی اور تشدد کابچوں پر تباہ کن اثر پڑ رہا ہے، اقوام متحدہ

ڈاکار ۔ 28 جنوری (اے پی پی) حقوق اطفال کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جنوبی افریقہ میں جاری لڑائی اور تشدد کا بچوں کے مستقبل پر تباہ کن اثر پڑ رہا ہے ، گزشتہ سال جنوبی افریقہ کے صحرائی خطے ” ساحل “ میں سینکڑوں بچے جاں بحق ، معذور یا جبری طور پر والدین سے جدا کئے گئے۔ رپورٹ کے مطابق صرف مالی میں 2019 کے پہلے 9 ماہ کے دوران 277 بچوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا یا وہ معذور ہوئے ، یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں دوگنا ہے۔ 2012ءسے یہاں پھوٹنے والے شورش نے بین الاقوامی امن فوج کی موجودگی کے باوجود ہزاروں فوجیوں اور عام شہریوں کی جانیں لیں، اب یہ صورتحال اس مغربی افریقی ملک کے شمالی علاقوں کے بعد وسطی حصے میںبھی پھیل رہی ہے اور ساتھ ہی ہمسایہ ریاستوں برکینا فاسو اور نائیجر میں نسلی کشیدگی نے سر اٹھا لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقہ کے اس صحرائی خطے میں متحارب فریقین کے درمیان کراس فائر کے دوران بچوں کو اٹھا کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ایسے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، یہ امرمزید تشویش کا باعث ہے کہ سینکڑوں بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور خاندانوں سے زبردستی جدا کردیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 49لاکھ ( 4.9 ملین ) بچوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہاں کھانا ، پانی ، ادویات اور تعلیم جیسی بنیادی خدمات کی دستیابی کا بھی شدید فقدان ہے، اس لئے خدشہ ہے کہ اس سال مالی ، برکینا فاسو اور نائیجر میں پانچ سال سے کم عمر تقریباً سات لاکھ 9 ہزار بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہوں گے جبکہ مجموعی طور پر تقریباً 48 لاکھ آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہوسکتی ہے۔ سکولوں ، اساتذہ اور طلبہ پر عسکریت پسندوں کے بڑھتے ہوئے حملے بھی تشویشناک ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپریل 2017 ءسے دسمبر 2019 ءکے درمیان وسطی ساحل خطے میں سکولوں کی بندش 6 گنا بڑھ گئی ہے جبکہ 6 سے 14 سال کی عمر کے 8 لاکھ سے زیادہ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ یونیسف نے عسکریت پسند گروپوں سے انسانیت کے احترام کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عدم تحفظ نے امدادی کام کو مزید مشکل اور خطرناک بنا دیا ہے۔ یونیسیف نے اس سلسلے میں 208 ملین امریکی ڈالر رقم کی بھی اپیل کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی ، برکینا فاسو اور نائیجر میں بچوں کے لئے انسانی ہمدردی کے 59 فیصد منصوبوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔یونیسف کے علاقائی ڈائریکٹر برائے مغربی اور وسطی افریقہ میری پیری پوائر نے ایک بیان میں کہا کہ لاکھوں افراد تکلیف دہ تجربات سے گزر چکے ، ہمیں ان بچوں کو تشدد سے بچانا ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ مالی دنیا کا واحد ملک ہے جہاں معصوم بچے جنگ سے انتہائی متاثر ہوئے تاہم ان کا کہنا تھاکہ برکینا فاسو اور نائجر میں بھی بچوں کو مسلح گروپوں کے ہاتھوں قتل ، جنسی استحصال ، اغواءکی وارداتوں کا سامنا ہے۔ اس وجہ سے نومبر 2019ءتک تقریباً 12 لاکھ افراد کو ترک سکونت پر مجبور ہوئے ، یہ 2018 ءکے مقابلے میں دوگنا اضافہ ہے جن میں نصف سے زیادہ بچے ہیں۔

تبصرہ کریں

آپ کی ایمیل یا ویبشایع نہیں کی جائے گی. لازمی پر کریں *

*